سانحہ گیاری کو 6 سال بیت گئے،یادیں آج بھی تازہ

17

سیاچن / گلگت : (سٹوری ٹوڈے)سیاچن کے گیاری سیکٹر پر پیش آنے والے سانحے کو چھ سال مکمل ہوگئے، تاریخ کی بدترین قدرتی آفات کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی یادیں آج بھی تازہ ہیں، اس موقع پر مختلف کنٹونمنٹس میں قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا۔

سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے شہید ہونے والوں کی یادیں آج بھی دلوں میں بسی ہیں، جنگی محاذ پر پیش آنے والا حادثہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے۔ ملک بھر میں سات اپریل 2012 کو برفانی تودہ گرنے سے شہید ہونے والے ناردرن لائٹ انفنٹری بٹالین کے 139 شہداء کی یاد میں آج مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جاری کردہ فہرست کے مطابق دنیا کے بلند ترین فوجی محاذ پر ہونے والے سانحہ میں ایک سو چوبیس فوجی اورگیارہ سویلین واقعہ میں شہید ہوئے۔ حادثے میں این ایل آئی سکس کا بٹالین ہیڈکواٹرز گلیئشر کے نیچے آکر ہمیشہ کیلئے کھو گیا۔

شہداء کے جسد خاکی نکالنے کیلئے علاقے میں چار سو سے زائد جوان دن رات امدادی کام میں جُتے رہے اور بالا آخر پچیس روز بعد پہلے شہید کا جسد خاکی برف سے نکالا گیا۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کی جانب سے آخری شہداء کے جسد خاکی نکالنے جانے تک آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ بعد ازاں 29 مئی 2012 کو پاک فوج کی جانب سے آپریشن مکمل کرنے اور تمام شہداء کے جسد خاکی برآمد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

واضح رہے کہ انیس سو چوراسی میں بھارتی فوج نے سیاچن پر اپنا ناجائز تسلط جمایا تھا، جس کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنے فوج اس علاقے میں تعینات کرنا پڑے۔ یوں ہندؤستان کے اس ناجائز قبضے کے نتیجے میں نہ صرف دونوں ممالک کے معاشی مسائل پر خاصا بوجھ پڑا، بلکہ قابض انڈین آرمی نے گزشتہ 32 برسوں میں اس گلیشئر کو اتنا گندا کر دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی جانب آنے والے پانی پر اس کے اثرات خطرناک حد تک مرتب ہو سکتے ہیں، جب کہ مستقبل میں یہ گلیشئر پگھل کر ناقابل تصور خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

loading...

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.