فیس بک صارف کو معاوضہ ادا کرے گا

70

واشنگٹن:(سٹوری ٹوڈے)فیس بک کے بانی زکر برگ نے کہا ہے کہ اگر کسی صارف کا ڈیٹا چوری کرکے اسے کسی تھرڈ پارٹی نے استعمال کیا ہے تو فیس بک صارف کو معاوضہ ادا کرے گا تاہم ہرجانے کی رقم کتنی ہوگی اس بارے میں انہوں نے کچھ نہیں بتایا ۔

بعض تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ فیس بک کی جانب سے یہ رقم کم سے کم 500 ڈالر اور زیادہ سے زیادہ 40 ہزار ڈالر تک ہوسکتی ہے جس کا دارومدار ڈیٹا چوری ہونے کی مقدار، اس کے استعمال، اس کے اظہار اور متاثرین کے تعداد کے لحاظ سے کیا جائے گا۔

فیس بک نے اسے ’ڈیٹا ابیوز باؤنٹی‘ کا نام دیا ہے جو ایسے صارفین کو دیا جائے گا جن کا ڈیٹا کسی ایپ ڈیولپر نے استعمال کیا یا پھر کسی دوسری پارٹی نے استعمال، چوری یا اسے کسی سیاسی اور دیگر مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔

واضح رہے کہ کیمبرج اینیلٹکا کمپنی کی جانب سے حال ہی میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیس بک کے 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین کا ڈیٹا ان کی مرضی کے بغیر 2016 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابات پر اثر ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا تاہم فیس بک نے اس عمل سے انکار کیا ہے لیکن اس واقعے نے فیس بک کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے.

ادھر ایک اور رپورٹ کے مطابق فیس بک کے سربراہ سے امریکی کانگریس میں دوسرے روز بھی جرح کی گئی، دو دن میں 10 گھنٹے سوال جواب کے باوجود مارک زکر برگ کانگریس کی پکڑ میں نہ آسکے۔

فیس بک میں ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لئے کیا اصلا حات کی جائیں؟ اراکین واضح طور پر نہیں بتا سکے، نہ ہی ارب پتی مارک زکر برگ سے کوئی ڈیڈ لائن حا صل کر سکے، زکر برگ نے کسی نئی اصلاح یا سوشل نیٹ ورک کے طریقہ کار میں تبدیلی کا وعدہ تک نہیں کیا ۔

امریکی کانگریس کی حالیہ تاریخ میں عوام کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی سماعت دس گھنٹے تک جاری رہی تاہم کروڑوں صارفین کی معلومات لیک کرنے کے باوجود مارک زکر برگ کانگریس کی پکڑ میں نہ آسکے۔

فیس بک سربراہ نے بتایا کہ کسی بھی صارف کا اپنی فیس بک معلومات پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے لیکن خود ہی یہ کہہ کر اپنے دعوے کی نفی کردی کہ سیاسی خدمات فراہم کرنے والی برطانوی فرم کیمرج اینالٹیکا کو پونے نو کروڑ صارفین کے ساتھ ساتھ خود ان کی معلومات بھی فراہم کردی گئیں، اس ڈیٹا فراہمی میں بے قاعدگی تھی۔

کانگریس سماعت کی وجہ بھی برطانوی فرم کو ڈیٹا لیک کیا جانا تھا جس کے بارے میں زکر برگ نے کہا کہ بنا اجازت ڈیٹا کی تھرڈ پارٹی کو فراہمی کا سلسلہ بند کیا جاچکا، یہ صارفین ہی ہیں جو اپنی معلومات کو عام کرتے ہیں، فیس بک نے ڈیٹا پر مکمل کنٹرول کےلیے انہیں آپشن دے رکھے ہیں۔

زکر برگ نے بتایا کہ 25مئی سے یورپی صارفین کےلیے ڈیٹا کے تحفظ کے سخت نظام کا اطلاق کیا جارہاہے، جسے بعد میں امریکا اور دوسرے ممالک تک بھی بڑھادیا جائے گا۔

ماہرین کا کہناہےکہ کانگریس میں فیس بک کے سربراہ سے پوچھ گچھ سوشل میڈیا کو قواعد کا پابند بنانے اور نگرانی کے ذریعے اسے قابو کرنے کی جانب اہم قدم ہے، تاہم قانون سازوں کو سوشل میڈیا کے بارے میں اپنی معلومات بڑھاناہوں گی، کانگریس کی سماعت سے سرمایہ کاروں کا فیس بک پر اعتماد بحال ہوا ہے اور دو روز میں اس کے شیئرز کی قیمتوں میں چھ فیصد کے قریب اضافہ ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.