چین نے اندھیرے سے تنگ آکر ایک اپنا مسنوعی چاند بنانے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔ یہ کیسے کام کرے گاَ

24

بیجنگ(نیوز ڈیسک)سائنس نے کیا کیا حیرت انگیز ایجادات نہیں کر ڈالیں، مگر یہ تو حد ہی ہو گئی کہ اب سائنسدانوں نے مصنوعی چاند بھی بنا لیا ہے، جو عنقریب آسمان پر چمکتا دکھائی دے گا۔ اور یہ انوکھا کارنامہ ہمارے دوست ملک چین کے سائنسدانوں نے سرانجام دیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ مصنوعی چاند حقیقی چاند کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ روشن ہوگا اور اس کی روشنی اتنی زیادہ ہوگی کہ سڑکوں پر رات کے وقت سٹریٹ لائٹس جلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اخبار ’’پیپلز ڈیلی‘‘ کے مطابق اگلے چار سال کے دوران چینی سائنسدان کل تین مصنوعی چاند خلا میں بھیجیں گے، جبکہ ان میں سے پہلا دوسال کے عرصے کے دوران ہی خلاء میں بھیج دیا جائے گا۔ مصنوعی چاند کی بیرونی سطح شیشے کی طرح چمکدار ہوگی جو سورج کی روشنی کو زمین کی جانب منعکس کرے گی۔ یہ مصنوعی چاند زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر کی دوری پر خلاء میں موجود ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک زمین پر 10 سے 80 کلومیٹر قطر کے علاقے کو روشن کرسکے گا۔

ووشون فینگ، جو کہ چینگ ڈو ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مائیکروالیکٹرانکس سسٹم ریسرچ انسٹیٹیوٹ کارپوریشن کے چیئرمین ہیں، نے اس پراجیکٹ کے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مصنوعی چاند اتنی روشنی زمین کی جانب منعکس کریں گے کہ جو کم از کم غروب آفتاب جیسا منظر ضرور پیدا کردے گی، یعنی نصف شب کے قریب بھی اتنی روشنی موجود ہوگی جتنی غروب آفتاب کے وقت موجود ہوتی ہے۔‘‘ ر

چینگ ڈو جیسے شہر کو مصنوعی چاند سے رات کے وقت روشن کرنے سے بجلی کی مد میں سالانہ 24کروڑ ڈالر تک کی بچت ہوگی۔ اس چاند کی مدد سے ایسے علاقوں کو بھی رات کے وقت روشن رکھا جاسکے گا جہاں قدرتی آفات کے نتیجے میں بجلی کا نظام متاثر ہوچکا ہو۔

چینی سائنسدانوں نے بتایا کہ انہیں اس انوکھے پراجیکٹ کا آئیڈیا ایک فرانسیسی آرٹسٹ سے ملا جس نے اپنی ایک پینٹنگ میں فرانس کی گلیوں کو آسمان میں لہراتی شیشوں کی مالا سے روشن کرنے کا تخیل اپنی ایک پینٹنگ میں پیش کیا تھا۔ ویسے اس سے پہلے روس نے بھی ایک خلائی شیشے کے ذریعے زمین پر روشنی پھیلانے کی کوشش کی تھی مگر بعدازاں اس پراجیکٹ کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا گیا۔ اب دیکھئے چینی چاند کی کرنیں کب زمین کو منور کرتی ہیں!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.