ایرانی معیشت پر امریکی پابندیوں کا دوسرا وار

15

واشنگٹن: امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے تحت ایران کے تیل، شپنگ اور مالیاتی شعبوں پر مزید پابندیاں کل سے نافذ کردی جائیں گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران پر امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کا اطلاق کل سے ہوجائے گا، جس کے تحت ایران کے تیل، شپنگ اورمالیاتی شعبوں سمیت 700 سے زائد شخصیات، کمپنیوں اور جہازوں پر پابندی عائد ہوجائے گی۔ جس کے باعث ایرانی کمپنیوں کا عالمی ادائیگیوں کے سوئفٹ نیٹ ورک بھی سے رابطہ منقطع ہوسکتا ہے۔

رابطہ منقطع ہوجانے پر ایرانی کمپنیاں عالمی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر کٹ جائیں گی تاہم عارضی طور جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، ترکی، اٹلی سمیت 8 ممالک کو ایران سے تیل خریدنے کی اجازت ہوگی۔ پابندیوں کا اطلاق ایران اور اس کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر یکساں ہوگا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے لیے7 شرائط رکھی ہیں جن میں عسکریت پسندی ختم کرنے اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری مکمل طور پر بند کرنا شامل ہیں، تاہم ایران عسکریت پسندی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کو خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک بہانہ کہتا ہے۔

امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ رواں برس 8 مئی کو ایران جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے کی پابندیاں رواں سال 7  اگست کو نافذالعمل ہوئی تھیں جن میں ایران کی امریکی ڈالر تک رسائی محدود کر دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ایران اورعالمی قوتوں کے درمیان 2015 میں جوہری معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد ایران پر سونے، قیمتی دھات کی برآمد، آٹو سیکٹر میں کاروبار، قالین سمیت اشیائے خورو نوش کی برآمد پر پابندی بھی ختم کی گئی تھی تاہم رواں برس امریکا نے خود کو معاہدے سے الگ کرلیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.