پاکستان میں ایچ آئی وی، ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 50 ہزارہوگئی، سروے

6

پشاور: ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض موجود ہیں۔

پریس کلب پشاور میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے زیر اہتمام آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں خیبرپختونخوا کے ماہر ڈاکٹر سعید ، ڈاکٹر جمیل اور دیگر ڈاکٹرز سمیت یو این ایڈز کنٹرول پروگرام کی ٹیم نے شرکت کی، اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی ایڈز جنسی تعلقات، استعمال شدہ انجیکشن کا دوبارہ استعمال، خون کی منتقلی اور ماﺅں سے بچوں کو منتقل ہوتا ہے خیبرپختونخوا میں 2005سے لے کراب تک 4622رجسٹرڈایڈزکے مریضوں کو مفت ادویات دی گئیں ہیں جن سے وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کی  جانب سے صوبے کی مختلف جگہوں پر سینٹرز بنائے گئے ہیں ، جس کا مقصد لوگوں میں اس بیماری کے حوالے سے شعور بیداری پیدا کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں جس شخص کو ایچ آئی وی ایڈزلاحق ہوتا ہے تو نہ ہی اس کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ اس کو اپنے گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے جبکہ صوبے میں سینٹرز قائم کرنے کا مقصد لوگوں میں ایچ آئی وی ایڈز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ اس کی روک تھام اور علاج بروقت ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایڈز ناسور کی طرح پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے سے ایشیامیں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے اس وقت پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ایڈز کے مریض موجود ہیں جس میں صوبہ پنجاب میں پچاس فیصد، سندھ 43 فیصد، خیبرپختونخوا بشمول قبائلی اضلاع 5 فیصد اور بلوچستان میں 2 فیصد مریض موجود ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 16 ہزار رجسٹرڈ کیسز ہیں جبکہ ملک میں غیر رجسٹرڈ ایک لاکھ 74 ہزار خواتین، 8 لاکھ 35 ہزار مرد اور53 ہزار خواجہ سرا کو ایڈز کا مرض لاحق ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں رجسٹرڈ مرد مریضوں کی تعداد 11 ہزار تین سو38، خواتین تین ہزارایک سو 71، خواجہ سرا 210 ، لڑکے 274 اور لڑکیوں کی تعداد 297 ہے۔

وفاقی حکومت نے ایڈز کی روک تھام کیلئے رواں سال 14ملین روپے مختص کیے ہیں انہوں نے کہا کہ ایڈز ایک ایسا مرض ہے جس کا علاج ممکن ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس کو شرم اور دیگر مسائل کی وجہ سے لوگ ظاہر نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ بیماری پھیل رہی ہے انہوں نے کہاکہ ایڈز کی بیماری سے بچاﺅ اور روک تھام کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.