جنسی ہراسانی معاملہ؛ ہدایت کار ساجد خان پر ایک سال کی پابندی

1

ممبئی: بھارتی فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایسوسی ایشن نے بالی ووڈ ہدایت کار ساجد خان پر جنسی ہراسانی معاملے میں ملوث ہونے پر ایک سال کی پابندی عائد کردی۔

بالی ووڈ اداکارہ تنوشری دتا کی جانب سے خواتین کو کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے خلاف شروع کی گئی ’می ٹو‘ مہم اب کچھ ٹھنڈی پڑتی نظرآرہی ہے تاہم مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ خاتون صحافی سمیت مختلف خواتین کو ہراساں کرنے والے ہدایت کار ساجد خان پر انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن (آئی ایف ٹی ڈی اے) نے ایک سال کی پابندی عائد کردی۔

ساجد خان پر خاتون صحافی، اداکارہ سلونی چوپڑا اور ریچل وائٹ نے جنسی ہراسانی کاالزام لگایا تھا جب کہ اداکارہ بپاشا باسو نے بھی ساجد خان کے متعلق کہا تھا کہ وہ خواتین کے ساتھ واہیات مذاق کرنے کے عادی ہیں۔ دوسری جانب اداکارہ دیا مرزا نے ساجد خان کے خواتین کے ساتھ رویے کو قابل نفرت قراردیتے ہوئے ان پر لگے تمام الزامات کی تصدیق کی تھی۔

Related image

اداکاراؤں سمیت مختلف خواتین کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد آئی ایف ٹی ڈی اے کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹی نے ان کے خلاف تفتیش کا آغازکیا تھا اور نومبر میں ساجد خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں ساجد خان سے سات دن میں وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ آپ کے رویے نے انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن تنظیم کو بدنام کیا ہے۔  نوٹس کا جواب دیتے ہوئے ساجد خان نے اپنے اوپر لگے الزامات کی تردید کردی تھی۔ تاہم  آئی ایف ٹی ڈی اے نے ساجد خان پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کردی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.