پاکستانی لڑکے کی محبت میں آسٹریلوی لڑکی پاکستان پہنچ گئی، لیکن یہاں آتے ہی اس کے ساتھ ایسا شرمناک کام

28

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک)حالیہ عرصے میں پاکستانی نوجوانوں کی محبت میں گرفتار ہو کر پاکستان آنے اور شادی کرنے والی گوریوں کی خبریں بہت سننے کو ملی تاہم اب ایسی ہی ایک آسٹریلوی لڑکی کے متعلق افسوسناک خبر سامنے آ گئی ہے جو ایک پاکستانی لڑکے کی محبت میں پاکستان آ گئی اور یہاں اس کے ساتھ ایسا شرمناک سلوک ہوا کہ وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ میل آن لائن کے مطابق 30سالہ لارا ہال نامی اس لڑکی کو لاہور کے سجاد نامی لڑکے نے محبت کا جھانسہ دے کر لاہور بلایا اور پھر گھر میں مقید رکھ کر کئی ماہ تک جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔ سجاد نے لارا کو ایک انتہائی عالیشان گھر کی بیرونی اور اندرونی تصاویر بھیجیں اور اسے لکھا کہ اس نے لارا کے لیے یہ گھر خریدا ہے اور وہ شادی کرکے اس گھر میں رہیں گے۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نوٹرے سے لاءکی ڈگری حاصل کرنے والی لارا سجاد کے لارے میں آ گئی اور پاکستان چلی آئی جہاں سجاد نے اسے اپنے ایک محلے میں واقع ادنیٰ سے گھر میں رکھا کہ حقیقت یہی تھی۔لارا نے اس فرضی عالیشان گھر اور سجاد کے اصلی گھر کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ اصلی گھر میں ہر طرف کچرا پھیلا ہوتا ہے، ٹوٹی چارپائیاں پڑی ہوتی ہیں اور جا بجا خالی بوتلیں بکھری ہوتی ہیں۔


رپورٹ کے مطابق 2013ءمیں لارا کی ایک پاکستانی لڑکی ریحانہ سے ٹرین میں سفر کے دوران دوستی ہوئی اور وہ سکائپ پر پاکستان میں ریحانہ کے گھر والوں سے بھی بات کرنے لگی۔ ایک بار ریحانہ کے گھروالوں سے بات کرتے ہوئے پہلی بار اس کا سجاد سے تعارف ہوا جو ریحانہ کا رشتہ دار تھا۔ لارا کا کہنا ہے کہ ”میرا تعلق ایک ایسی فیملی سے تھا جو میرے بچپن میں ہی ٹوٹ گئی تھی۔ جب میں ریحانہ اور اس کی فیملی سے ملی تو مجھے لگا کہ یہی وہ چیز ہے جس کی مجھے بچپن سے خواہش تھی۔ چنانچہ میں بہت آسانی کے ساتھ سجاد کے جھانسے میں آ گئی۔ اس کے بھائی کی شادی تھی اور اس نے مجھے شرکت کی دعوت دی۔ میں نے سوچا کہ یہ بہتر موقع ہے کہ میں سجاد کی محبت کی حقیقت جان سکتی ہوں چنانچہ میں شادی میں شرکت کے لیے لاہور چلی گئی جہاں وہ خوفناک صورتحال میری منتظر تھی جس کا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ سجاد نے مجھے گھر میں مقید کر لیا اور کئی بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس کے بھائی نے بھی مجھے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ میرے پاس 30دن کا ویزا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا۔ میں نے آسٹریلوی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا لیکن وہاں سے میری کوئی خاطرخواہ مدد نہیں کی گئی۔ پھر میں نے اپنے طور پر وہاں سے فرار ہونے کا پلان بنایا اور ڈاکٹر قیصر رفیق سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا جو ایلیٹ اے ایف او ایچ ایس کلب (AFOHS Club)کے چیف ایگزیکٹو تھے۔ ایک رات سجاد نے مجھے قتل کی دھمکی دی۔ جب میں نے اس کے متعلق ڈاکٹر قیصر کو بتایا تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دے دی۔ پولیس آئی اور مجھے اپنے ساتھ پولیس سٹیشن لے گئی۔ بعد ازاں پولیس نے مجھے ڈاکٹر قیصر کی تحویل میں دے دیا۔ اس کے بعد دو ہفتے میں نے اے ایف او ایچ ایس کلب میں گزارے جہاں انہوں نے میرے لیے ایک پارٹی کا بندوبست کیا کیونکہ ڈاکٹر قیصر نہیں چاہتے تھے کہ میں پاکستان کا یکسر غلط تشخص لے کر واپس آسٹریلیا جاﺅں۔“

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.