”ہمیں ہفتوں ساتھ کام کرنا پڑ رہاتھا“؟ میشا شفیع نے علی ظفر کی طرف سے جنسی حراسانی کی بات عوام تک پہنچانے کی وجہ بیان کردی

15

اسلام آباد: گلوکارہ میشا شفیع نے کہاہے کہ مجھے اور علی ظفر کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا تھا جو ہفتوں پر مشتمل تھا جس پر میں نے اس معاملے کو عوام تک پہنچا دیا۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے میشا شفیع نے کہا کہ ہمیں ساتھ کام کرنا پڑ رہا تھا جو ہفتوں پر مشتمل تھا جس پر میں نے اس معاملے کو عوام تک پہنچا دیا ۔انہوں نے کہا کہ میں نے شروع میں چار آپشنز استعمال کئے ، علی ظفر سے بات کی رابطہ کیا ،میر ی پوری کوشش یہ تھی کہ کسی طرح بھی بات عوام تک نہ پہنچے ، میں نے علی ظفر کے نمائندگان سے بات کی اور ان کو پیغام دیا کہ میں کسی قسم کاجھگڑا نہیں چاہتی اوراس بات کو بھی پبلک نہیں کرنا چاہتی ، علی ظفر کو سمجھا لیں ، میں ان کے ساتھ کام نہیں کر سکتی ، یہ اپنا راستہ لیں اور مجھے اپنا راستہ لینے دیں جس پر علی ظفرکا جواب آیا کہ میرے ساتھ گھر آکر بات کرلیں ، میرے سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ کیا اگر آپ سے معافی مانگی جائے تو آپ معافی قبول کرلیں گی جس پر میں نے کہا کہ اس پر سوچا جاسکتا ہے لیکن پھر وہ مکر گئے اور کہا کہ میرے ساتھ گھر آکر بات کرلیں ۔انہوں نے کہا کہ میں یہ پراجیکٹ پہلے سے کررہی تھی اور اس پراجیکٹ پر علی ظفرلایا جارہاتھا جس پر میں نے ان کوپیغام پہنچانے کی کوشش کی لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ یہ تو وہی کچھ ہورہاہے جومیں نہیں ہونے دینا چاہتی تھی تو پھر میں نے معاملے کوٹوئٹ کردیا۔

انہوں نے کہاہے کہ اپنا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے بندہ کسی نہ کسی کو تو بتاتاہے ،ہمارے پاس کئی گواہ ہیں اور ہم عدالت میں اپنے گواہ پیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والا میرا سابق منیجر دبئی سے میرے پیسے لیکر فرار ہوا ۔ میں نے علی ظفر کے ساتھ معاملہ حل کرنے کی پوری کوشش کی کہ یہ معاملہ نجی طور پر حل ہوجائے اور مجھے ان کے ساتھ کام بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب میں نے ٹوئٹ کردیا تو علی نے میرے ساتھ رابطہ کیا لیکن اب اس معاملے کوحل کس طرح کریں یہ کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ان کا کہناتھا کہ میں یہ مسئلہ چاہتی ہی نہیں تھی، میں اس وقت بولی جب مجھے پتہ لگا کہ یہ مسئلہ حل نہیں ہورہاہے ۔ان کا کہناتھا کہ صرف میں ہی نہیں بلکہ میرے بعد اور بھی بہت سی عورتیں بولیں،ایک ہی بندے کے بارے میں، اس لئے صرف میرے لئے ہی نہیں بلکہ دوسری عورتیں کیلئے بھی سوچناپڑےگا ۔:

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.