’میرے انکل روزانہ مجھے نیند کی گولی دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے اور۔۔۔‘ ریپ کا نشانہ بننے والی نوجوان لڑکی پر اپنے ہی گھر والوں نے قیامت ڈھادی

29

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا میں ایک 14سالہ لڑکی کو ہمسائے میں رہنے والے ایک 21سالہ لڑکے نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا اور اس کے بعد خود لڑکی کے گھر والوں نے ایسا کام کر ڈالا کہ اس پر قیامت ڈھا دی۔ میل آن لائن کے مطابق یہ خاندان لبنانی نژاد تھا اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں رہائش پذیر تھا۔ جب لڑکی کے والدین کو پتا چلا کہ ہمسائے نے ان کی بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے تو وہ پولیس کو رپورٹ کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی بیٹی کو واپس لبنان اس کے انکل کے پاس بھیج دیا تاکہ وہاں اس کے کزن کے ساتھ اس کی شادی ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق جب لڑکی نے کزن کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کیا تو اس کے انکل نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ وہ روزانہ رات کو اسے نیند کی گولیاں دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا۔ کئی ماہ تک اس حیوانیت کا شکار بننے کے بعد بالآخر ایک روز لڑکی گھر سے بھاگ کر ایئرپورٹ پہنچنے میں کامیاب ہو گئی اور واپس آسٹریلیا چلی گئی جہاں اسے آسٹریلوی پولیس نے ریسکیو کیا۔ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ”جب میں نے شادی سے انکار کیا تو میرے انکل نے مجھے کہا کہ اگر تم میرے بیٹے سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو تمہیں میرے بستر میں آنا پڑے گا۔ اس کے بعد وہ روزانہ مجھے نشہ آور ادویات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ وہ مجھے دھمکیاں دیتا تھا کہ اگر میں نے بھاگنے یا کسی کو اس سب کچھ کے متعلق بتانے کی کوشش کی تو وہ مجھے گولی مار دے گا۔ “ رپورٹ کے مطابق لڑکی گھر سے بھاگنے کے بعد لبنان میں ہی اپنی ایک آنٹی کے پاس چلی گئی اور اسے سارا ماجرا بتایا جس نے پولیس کو اطلاع دے دی۔ پولیس نے اس کے انکل کو گرفتار کر لیا اور لڑکی کی آنٹی نے اسے واپس سڈنی روانہ کر دیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.